سائنس اور ٹیکنالوجی

پرانے کپڑوں کی مدد سے گھر کی تعمیر ممکن

ویلز: پرانے اور غیرضروری کپڑوں کو ریشوں(فائبرز) میں ڈھال کے انہیں ٹائلوں اور دیواروں ٹھوس شکل دے کر کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ دنیا بھرمیں پرانے کپڑوں کا ٹنوں وزنی کوڑا کرکٹ بنتا ہے اور ان کا بظاہر کوئی مصرف نہیں تھا۔ اگرچہ پاکستان میں یہ بڑا مسئلہ نہیں تاہم امریکہ اور یورپ میں بہت تیزی سے کپڑے الماریوں کی بجائے کوڑے دانوں میں پھینکے جاتے ہیں۔آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کی سائنسدان وینا سہج والا برسوں کی غوروفکر کے بعد پرانے کپڑوں کو ریشوں میں تبدیل کر کےان سے تعمیراتی مٹیریل تیار کرنے میں کامیاب ہوگئیں ہیں۔

اس کے لیے وینا نے مختلف قسم کے پرانے کپڑے جمع کئے اور کپڑوں سے رپ،بٹن اور ٹھوس اشیاء نکال کر جمع کیں۔ اس کے بعد کپڑے کو نرم کرنےکے لئےایک شریڈر مشین سے گزارا جس سے کپڑا ایسے باریک ریشوں میں ڈھل گیا جس میں سوتی، پولسٹر، نائلون اور دیگر اقسام کے ریشے موجود تھے۔اس کے بعد ان میں ایک کیمیکل ملاکر سب ریشوں کو یکجا کیاگیا اور ایک شکنجے میں دباکر ٹھوس شکل میں ڈھال لیا گیا۔ بعد ازاں اس حاصل شدہ میٹیریل کو کئیں تجربات سے گزارا گیااورکئی ٹیسٹ میں اسے واٹر پروف، مضبوط ، ٹھوس اور آگ سے محفوظ پایا گیا اس طرح پرانے کپڑوں سے عمارت کی ٹائلیں اور ٹھوس پینل بنائے جاسکتے ہیں۔حتی کہ ان سے فرش کی تکمیل بھی مکمل ہے۔ ۔ اس مادے کی افادیت بڑھانے کے لیے اس میں لکڑی کا برادہ اور دیگر اجزا مثلاً فلیس وغیرہ بھی شامل کئے جاسکتے ہیں ۔ اس طرح حسبِ خواہش نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کپڑوں سے بننے والا ٹھوس مٹیریل مختلف رنگ، ڈیزائن اور کیفیات کا حامل ہے یعنی بعض پر لکڑی، پتھر یا سرامک کا گمان ہوتا ہے۔ اس لیے یہ گھریلو ٹائلوں پینل اور دیگر اندرونی آرائش کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔

To Top