سائنس اور ٹیکنالوجی

اب موبائل اور لیپ ٹاپ کو بار بار چارج کرنےکی زحمت نہ اٹھائیں

نیویارک سٹی:موبائل اور لیپ ٹاپ کی بیٹری بار بار ختم ہونے پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور موجودہ دور میں وقت کی قلت کے باعث بیٹری کو بار بار چارج کرنے سے اکتاہٹ ہوتی ہے۔لیکن اس مسلے کے حل کیلئے سائنس دانوں نے ایسی بیٹری تیار کرلی ہے جسے مہینے میں صرف دو بار چارج کرنا ہوگا۔حال ہی میں شائع ہونے والے مقالے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سائنس دانوں نے فلورائیڈ بیٹری بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہےجسے ایک بار چارج کرنے کے بعد دو ہفتے تک دوبارہ چارج
کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔فلورائیڈ بیٹری کی تیاری کے لیے دنیا کے بہترین ادارے کالٹیک اور جیٹ پاپولیشن لیبارٹری، ہنڈا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ،ناسا اور لارنس برکلی نیشنل لیبارٹری کے ماہرین نے مل کر یہ شاندار بیٹری تیار کی ہے۔تحقیقی ٹیم کے سربراہ اورنوبل پرائزحاصل کرنے والےپروفیسر رابرٹ گربس نے بتایا کہ فلورائیڈ آئن بیٹری دیگر لیتھیم بیٹریوں کے مقابلے میں 8 گنا طاقت ور ہوتی ہیں اور اتنی تیزی سے صرف بھی نہیں ہوتی انہیں ایک بار چارج کرنے کے بعد 15 دن تک چارج کرنے سے جان چھوٹ جاتی ہے اگرچہ یہ بیٹری تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے تاہم سائنس دان اس کو کامیاب تجربہ سمجھتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ
یہ بیٹری جلد ہی مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔واضح رہے کہ1970ء میں بھی فلورائیڈ آئن بیٹری بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا لیکن اس میں ٹھوس اجزاء کے استعمال کی وجہ سے یہ بیٹریاں صرف بلند درجہ حرارت پر ہی کام کر پاتی تھیں اس وجہ سے سائنس دانوں کا تجربہ ناکام رہا۔پہلے تجربے سے سیکھنے کی بنا پر اس بار سائینسدانوں نے بیٹری کی تیاری میں ایسے اجزاء استعمال کئے ہیں جو کمرے کے درجہ حرارت پر بھی احسن طریقے سے کام کرے گی۔سائنس دانوں کا دعوی ہی کہ اس ایجاد سے توانائی اور وقت میں بچت ہوگی جب کہ صارفین کو بھی اس بیٹری کا بے تابی سے انتظار ہے جسے بار بار چارج کرنے کی زحمت نہ اُٹھانا پڑے۔

To Top