سائنس اور ٹیکنالوجی

ناسا کے خلائی جہاز سے اربوں میل دور نظام شمسی کےسیارچے کی تصاویر موصول

پیساڈینا، کیلیفورنیا: نیا سال ناسا کے ماہرین کے لیے بھی خوشی کا باعث بنا ہے کیونکہ نئے سال کے آغاز میں ہی ناسا کے خلائی جہاز’نیوہورائزن‘ نے چار ارب سال دوری سے اپنی خیریت کا پیغام بھیجنے کے ساتھ ساتھ ایک برفیلے سیارچے ’ الٹیما ٹولی‘ کی تصویر بھی روانہ کی ہے۔ماہرین نے بتایا کی ان کو اس بات کی فکر لاحق تھی کہ الٹیما ٹولی کے پاس جاتے ہوئے خلائی جہاز خاموش ہوجائے گا کیونکہ وہ زمین سے انتہائی دوری پر ہیں اور اس میں موجود ڈیٹا کو زمین تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا۔
مشن مینیجر ایلِس بومین اور ان کی ٹیم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ خلائی جہاز مکمل طور پر ٹھیک اور بہتر حالت میں ہے۔ اسکے سگنل اسپین میں واقع ناسا کے ڈیپ اسپیس نیٹ ورک نے وصول کئے۔الٹیما ٹولی نظامِ شمسی میں واقع ایک جسم ہے جو بہت قدیم ہے اور اس کے اندر نظامِ شمسی کے کئی راز چھپے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے اس کی تحقیق سےنظامِ شمسی کو جاننے میں بھی مدد ملے گی۔2006 میں زمین سے روانہ کئے گئے نیوہورائزن خلائی جہاز نے 2015 میں پلوٹو کا فلائی بائے کیا تھا
اور اب یہ زمین سے چار ارب میل کے فاصلے پر موجود ہے اور اس کا سگنل زمین تک آنے میں چھ گھنٹے آٹھ منٹ لگتے ہیں۔ تاہم اس نے پلوٹو کی حیرت انگیز تصاویر اور معلومات بھی روانہ کی تھیں۔بھیجی گئیں سیارچے کی تصاویر الٹیما ٹولی سے صرف 2200 میل دوری کے فاصلے سے لی گئی۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ نیوہورائزن سے مزید ڈیٹا اور تصاویر بھی موصول ہوں گی۔

To Top