سائنس اور ٹیکنالوجی

مکھیوں کی بھنبھناہٹ سن کر پھول زیادہ رس بناتے ہیں

تل ابیب:تل ابیب یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کی پھول کسی بھی پودے کیلئے آلہ سماعت کا کام کرتے ہیں۔یعنی پودے پھولوں کو بطور’کان‘ استعمال کرتے ہیں ۔ صرف یہی نہیں پھول جو بھی آوازیں سنتے ہیں ان کو سن کر اپناعرق خارج کرنے لگتے ہیں۔بھنبھناہٹ کی آواز ہو یا کوئی اور آواز، پودوں پر اثرات مرتب کرتی ہے۔مختلف فریکوینسی کی آوازیں سننے کے بعد عرق نکالنے کی مقدار بھی مختلف ہوتی ہے۔جیسے ہی بھنبھناہٹ کی آواز بڑھتی ہے وہ مزید میٹھا رس بنانے لگتے ہیں۔یہ عمل صرف تین منٹ کے اندر شروع ہوجاتا ہے
اور پھولوں کا رس بڑھنے لگتا ہے۔یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بعض آوازیں ایسی ہیں جنہیں سن کر پودے پودے 20 فیصد زائد رس تیار کرتےہیں ۔ پودوں کا ردعمل خاص آوازوں پر ہی ہوتا ہے جیسا کہ ماہرِ حیاتیات پروفیسر لیلاک ہیڈانی اور ان کے ساتھیوں نے یہاں تک کہا ہے کہ بعض پھول آواز سنتے ہی جھومنےلگتے ہیں
لیکن وہ ہر آواز پر نہیں جھومتے بلکہ اس کے لیے خاص فریکوینسی کی آواز درکار ہوتی ہے لیکن اگر شور بہت زیادہ ہو تو یہ سارا عمل گھڑبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پرندے، تتلیاں اور مکھیاں بھی شور سے بہت متاثر ہوتی ہیں۔ پودوں اور درختوں پر انسانی آواز کے بھی تجربات کئے گئے ہیں اور یہ دلچسپ معلومات سامنے آئیں ہے کہ خواتین کی آواز سن کر ٹماٹر کے پھل اچھی طرح نشوونما پاتے ہیں۔

To Top