10

جیمز واٹسن نامی امریکی مولیکیو لر بائیولوجسٹ نے اپنے ساتھی فرانسس کے ساتھ مل کر ڈی این اے سٹرکچر دریافت کیا۔

1953 میں جیمز واٹسن نامی امریکی مولیکیو لر بائیولوجسٹ نے اپنے ساتھی فرانسس کے ساتھ مل کر ڈی این اے سٹرکچر دریافت کیا۔ میڈیکل سائنس میں یہ اب تک کی چند بڑی ریسرچز میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ 1962 میں جیمزواٹسن کو نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔

یہ جیمز واٹسن کے عروج کا دور تھا۔ اسے پوری دنیا میں شہرت ملی، امریکہ کی بڑی یونیورسٹیز اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹس میں اسے اعزازی لیکچرر، پروفیسرشپ اور سکالر کے عہدے ملے، پبلشرز نے اس کے آرٹیکلز لاکھوں ڈالرز میں خریدے، میڈیکل اور فارماسوٹیکلز انڈسٹری کے بڑے بڑے جائنٹس نے اسے اعزازی ڈائریکٹرشپ سے نوازا۔

جیمز واٹسن نے بھی اپنی تحقیق اور محنت سے میڈیکل سائنس، بالخصوص مائکروجینیٹکس میں بیش بہا خدمات سرانجام دیں اور بہت عزت سمیٹی لیکن پھر 2007 کا وہ بدقسمت دن آگیا جب جیمز واٹسن نے ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے مندرجہ ذیل فقرات کہے:

” مجھے افریقہ کے مستقبل سے بہت تشویش لاحق ہے کیونکہ ہماری تمام سماجی پالیسیاں اس مفروضے پر قائم ہیں کہ افریقی کالے ذہانت کے اعتبار سے ہمارے برابر ہوتے ہیں، حالانکہ تمام حقائق اس کے الٹ نظر آتے ہیں ”

جیمز واٹسن کے ان الفاظ نے جیسے آگ لگادی۔ امریکہ میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ فی الفور تمام یونیورسٹیز اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹس نے واٹسن کو اس کے عہدے سے برطرف کردیا۔ تمام اداروں نے اسے اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے نکال دیا، تمام تعلیمی اداروں میں اس کا داخلہ ناممکن بنا دیا گیا۔ وہ فاقوں پر آگیا، پھر اسے مجبوراً اپنا 1962 میں ملا ہوا نوبل ایوارڈ اور گولڈ میڈل نیلامی میں بیچنا پڑا جس کے اسے 4 ملین ڈالرز کے قریب ملے۔

چند سال بعد جیمزواٹسن نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اس سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی اور وہ اس سزا کا مستحق تھا۔

کل زینب کے قاتل کا ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر پکڑے جانے پر مجھے جیمزواٹسن کے حالات زندگی جاننے کا خیال آیا۔

1952 میں جب وہ ڈی این اے پر ریسرچ کررہا تھا، اس وقت پاکستان کے مسلمانوں کا اولین مسئلہ لاؤڈ سپیکر کو شیطانی عمل قرار دینا، رفع یدین اور شلوار کی ٹخنوں سے اونچائی جاننا تھا۔

وہ امریکی معاشرہ جس میں کبھی کالوں کو ریسٹورنٹس میں داخلہ نہیں ملا کرتا تھا، وہاں ان کے خلاف ایک بیان دینے پر امریکہ کی تاریخ کے ایک بڑے ہیرو کو نشان عبرت بنا ڈالا۔

دوسری طرف پاکستان میں جس نے زینب کا قتل کیا وہ اپنے محلے میں تعویذ دھاگے، پیری مریدی اور جن نکالنے کا کام کرتا تھا۔
دو روز قبل کراچی میں ایک قاری نے 9 سالہ قرآن حفظ کرنے والے بچے کو معمولی شرارت پر ڈنڈے مار مار کر قتل کرڈالا اور اس بچے کے والدین نے قاری کو معاف کردیا۔
پچھلے سال سرگودھا کے ایک پیر نے ڈنڈے مار مار کر دو درجن سے زائد لوگوں کو ہلاک کرڈالا۔

مولانا فضل الرحمان خواب میں حضرت آدم علیہ السلام سے فون پر بات کرتا ہے اور مولوی خادم حسین رضوی رات کو دیر سے گھر آئے تو آگے جن اس کا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔

زینب کے قاتل کی گرفتاری صرف اور صرف ڈی این اے ٹیسٹ کی بدولت ممکن ہوسکی۔ وہ ڈی این اے جس کی تحقیق 1952 میں امریکی کافروں نے کی جو آج مسلمانوں کے کام آرہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں