18

میں نے عریاں تجھ کو اے رشک قمر دیکھ لیا

میں نے عریاں تجھے اے رشک قمر دیکھ لیا
دیدہ و دل کو جو تھا مد نظر دیکھ لیا

نزع میں یار نے صورت نہ دکھائی مجھ کو
دشمن و دوست کو ہنگام سفر دیکھ لیا

لے گئی وحشت دل گور غریباں کی طف
ہم نے یاران گزشتہ کا بھی گھر دیکھ لیا

خوں کیا غیر کے دل کو مری جاں بازی نے
یاد نے چیر کے پہلو کو جگر دیکھ لیا

دہن یار سے اک شعر کسی دن نہ سننا
ہم نھے اس اپنی زباں کا بھی اثر دیکھ لیا

بھر گیا دامن نظارہ گل نرگس سے
آنکھ اٹھا کر جو کبھی تو نے ادھر دیکھ لیا

روبرو رہنے لگا آئینہ آتش شب و روز
یاد کو غیر سے بھی شیر و شکر دیکھ لیا
آتش حیدر علی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں