5

اب انسانی جسم بنائے گی بجلی

اگر بجلی نہیں ہوتی تو آپ دنیا میں موجود نہ ہوتے۔ جی ہاں،یہ بجلی ہی ہے جس کے ذریعے ہمارے بدن کا حاکم ِاعلی،دماغ اپنے تمام نہایت پیچیدہ ونفیس کام انجام دیتا ہے۔ دراصل دماغ اور انسانی جسم میں خلیوں کے مابین دوڑتے پھرتے برقی سگنل ہی ہمیں اس قابل بناتے ہیں کہ ہم خیالوں ہی خیالوں میں امریکا پہنچ جانے سے لے کر پانی کا گلاس تھامنے تک کی معمولی سرگرمی ادا کر سکیں۔ گو انسانی جسم میں بجلی کی زیادہ مقدار پیدا نہیں ہوتی تاہم سائنس دانوں کو یقین ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا کر زندگی بدل دینے والے آلات تیار کرنا ممکن ہے۔

مثال کے طورپر ایسے میٹریل سے ملبوسات تیار کرنا جو انسانی جسم کی حرارت یا حرکت سے بجلی پیدا کر سکیں۔ برطانیہ کی ساؤتھ ہپمٹن یونیورسٹی سے وابستہ موجد، پروفیسر سٹیو بیبی ایسا ہی لباس ایجاد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ پروفیسر سٹیو ایسا کوٹ بنانا چاہتا ہے جو انسانی جسم پہ لگے حساس طبی آلات ( medical sensors)کو بجلی فراہم کر سکے۔ یوں آلات کے لیے آسان ہو جائے گا کہ وہ روزانہ مخصوص اوقات میں مریض کا بلڈپریشر، شکر کی سطح، دل کی دھڑکن وغیرہ چیک کر سکیں۔

وہ آلات پھر نتائج بے تار (وائرلیس)طریقے سے ڈاکٹر یا ہسپتال بجھوا دیں گے۔ اس طرح مریض کو بار بار ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس جانے سے نجات ملے گی اور وہ وقت، توانائی اور پیسا بچا پائے گا۔ اس سلسلے میں پروفیسر سٹیو کہتا ہے ’’ہم ایسا لباس ایجاد کرنا چاہتے ہیں جو روزمرہ کام انجام دیتے ہوئے بجلی بنائے۔ جب وہ وافر بجلی بنا لے تو اسے استعمال کر لیا جائے۔ جب کام ختم ہو تو آلات دوبارہ ’’خاموش‘‘ ہو جائیں۔ جب کہ لباس نئے سرے سے بجلی بنانے لگے۔‘‘ تاہم ایسا لباس تیار کرنا سائنس دانوں کے لیے چیلنج ہے۔ وجہ یہ کہ بجلی ہمیشہ ایٹموں کی رگڑ سے جنم لیتی ہے۔ جب کہ لباس یوں ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ انسان کو آرام سے حرکت کرنے کا موقع دے سکے۔ اسی لیے ماہرین ایسا لباس بنانا چاہتے ہیں جو آرام دہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی طریقے سے بجلی بھی پیدا کرے۔
بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ بجلی پیدا کرنے کا نظام جوتے یا موزوں میں فٹ کیا جائے کیونکہ چلتے ہوئے لباس کے ایٹم مسلسل آپس میں رگڑ کھاتے رہیں گے۔ انسانی جسم میں خون کی روانی یا اندرونی اعضا کی حرکات سے بھی بجلی پیدا کرنا ممکن ہے۔

ساؤتھ ہپمٹن میں واقع یونیورسٹی ہسپتال کے ماہر امراض قلب، ڈاکٹر پال رابرٹس نے تو ایسا پیس میکر ایجاد کر لیا ہے جو دل کی دھڑکن سے بجلی حاصل کرتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹس کہتا ہے ’’جب کبھی اتفاقاً ہم دل پہ ہاتھ رکھیں تو اس کے دھڑکنے کی شدت ہمیں حیران کر دیتی ہے۔ حتیٰ کہ عموماً ہم زیادہ دیر اپنے قلب پر ہاتھ نہیں رکھ پاتے حالانکہ تب دل حالتِ آرام میں ہوتا ہے۔ اگرکوئی چلے پھرے، بھاگے دوڑے اور کام کرے تو حرکت قلب مزید تیز ہو جاتی ہے۔ چناںچہ یہ انسانی عضو توانائی کا خزانہ ہے جس سے فائدہ اٹھانا ممکن ہے۔‘‘

اس مشینی پیس میکر کا غبارہ دل کے دونوں جوفوں (چیمبروں)کے درمیان رکھا جاتا ہے۔جب بھی دل دھڑکے تو دونوں جوف غبارہ بھینچ دیتے ہیں۔ اس غبارے کے ساتھ بذریعہ تار ایک مقناطیس نصب ہے۔ جب بھی غبارہ بھنچے، وہ مقناطیس بجلی پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹس اور ان کی ٹیم اس طریقے کے ذریعے پیس میکر کو مطلوب 50 فیصد بجلی پیدا کر چکی۔

فی الوقت ایسے پیس میکر دستیاب ہیں جن کی بیڑیاںچھ سات سال بعد ناکارہ ہو جاتی ہیں۔ چناںچہ بذریعہ آپریشن نئی بیڑیاں ڈالنی پڑتی ہیں تاکہ پیس مکر کام کرتا رہے۔یہ خدشہ موجود ہے کہ مریض کے قلب سے پیدا کردہ بجلی پیس میکر چلانے لگے تو خدانخواستہ وہ جواب دے سکتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر رابرٹس کا کہنا ہے ’’ہمارا ایجاد کردہ پیس میکر دل کی صرف ایک فیصد توانائی سے چلے گا۔ لہٰذا اگر کسی مریض کا قلب بہت ہی کمزور ہے تب بھی ایک فیصد اتنی تھوڑی مقدار ہے کہ اس کے مجموعی فعل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

اُدھر امریکا کی کارن فیلڈ یونیورسٹی میں ایسے آلات کی تیاری جاری ہے جنھیں فوجی پہن کر بجلی پیدا کر سکیں۔ مثلاً گھٹنوں پہ پہنی جانے والی بریکٹس تا کہ فوجی مارچ کریں یا بھاگیں ، تو ان میں نصب آلات بجلی بنانے لگیں۔ دراصل آج کل کے فوجی ہمہ اقسام کے برقی آلات اٹھائے پھرتے ہیں۔ وہ سبھی آلات بیڑیوں سے چلتے ہیں۔ سائنس دان چاہتے ہیں کہ یہ آلات جسمانی بجلی کی مدد سے کام کریں، یوں بیڑیوں کی ضرورت نہیں رہے گی اور فوجی کو کم وزن اٹھانا پڑے گا۔

بجلی پیدا کرنے والے بعض آلات جوتوں یا فوجیوں کے پشتاروں (بیک پیک) پر لگیں گے۔ چونکہ دونوں مقام عموماً حرکت میں رہتے ہیں لہٰذا وہاں زیادہ بجلی جنم لے گی۔ کارن فیلڈ یونیورسٹی کے محقق، رچرڈ ڈینیئل کا کہنا ہے ’’ اگر فوجی کا اپنا بدن بجلی پیدا کرنے لگے تو وہ بیڑیوں کی ضرورت سے بے نیاز ہو جائے گا ۔تب وہ اپنے فرائض زیادہ بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہے۔ شروع میں بجلی پیدا کرنے والے آلات پر خاصی لاگت آئے گی، لیکن طویل المیعاد طور پر ان کے فوائد زیادہ ہیں۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں